کابل،12/ اگست(آئی این ایس انڈیا)افغانستان میں طویل جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور طالبان کے درمیان فروری میں ہونے والے ایک معاہدے کے تحت قیدیوں کے تبادلے کا مرحلہ تقریباً مکمل ہو گیا ہے۔ افغان حکومت نے طالبان کے 400 قیدیوں کو رہا کرنا ہے جس کے بعد اگلے مرحلے میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات ہوں گے۔
قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے بین الافغان مذاکرات سے متعلق منگل کو وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افغان امن مذاکرات امریکہ سے ہونے والے معاہدے کے تحت آگے بڑھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے میں واضح طور پر لکھا ہے کہ جنگ بندی ایک الگ موضوع ہے جس پر بین الافغان مذاکرات کے دوران بحث ہو گی اور اس کے بعد ہی کسی نتیجے پر پہنچا جائے گا۔
سہیل شاہین نے اس بات پر زور دیا کہ طالبان افغان تنازع کا حل تلاش کرنے کے لیے بین الافغان مذاکرات میں شامل ہوں گے جب کہ مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے افغان حکومت کو بھی لچک دکھانا ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ افغان تنازع یک طرفہ طور پر حل نہیں ہو سکتا۔ اگر افغان حکومت بھی مسئلے کا حل چاہتی ہے تو فریقین کو ایک ساتھ مل کر مسئلے کا حل تلاش کرنا ہو گا۔
طالبان اور افغان حکومت نے اب تک بین الافغان مذاکرات کے انعقاد کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا ہے۔ تاہم آئندہ ہفتے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ان مذاکرات کے انعقاد کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بیلجیئم سے تعلق رکھنے والے 'انٹرنیشنل کرائسس گروپ' کی منگل کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان کی مختلف مسائل پر پوزیشن واضح نہیں ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے آئین، سیاسی نظام، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق طالبان یا تو ابہام کا شکار ہیں یا وہ غیر واضح ہیں۔
رپورٹ کے مطابق طالبان افغانستان کے آئین کو تسلیم نہیں کرتے اور اسے غیر اسلامی اور ملک پر امریکی قبضے کی پراڈکٹ قرار دیتے ہیں۔
بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار
بین الافغان مذاکرات کی راہ اُس وقت ہموار ہوئی تھی جب افغان صدر اشرف غنی نے پیر کو طالبان کے بقیہ 400 قیدیوں کی رہائی کے فرمان پر دستخط کیے تھے۔
طالبان اور امریکہ کے درمیان 29 فروری کو دوحہ میں ہونے والے معاہدے کے تحت افغان حکومت کو پانچ ہزار قیدی جب کہ طالبان کو افغان حکومت کے ایک ہزار قیدی رہا کرنا تھے۔
افغان حکومت نے طالبان کے 400 قیدیوں کے سوا تمام قیدی رہا کر دیے تھے۔ بعد ازاں اتوار کو ہونے والے لویہ جرگے کی سفارش کے بعد صدر غنی نے ان 400 قیدیوں کی رہائی کا بھی حکم دیا ہے۔
امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کو جولائی 2021 تک افغانستان سے فوجی انخلا کرنا ہے جب کہ اس دوران طالبان، افغان دھڑوں سے امن مذاکرات کریں گے۔
طالبان سے معاہدے کے وقت امریکہ نے افغانستان سے اپنے فوجیوں کی تعداد 13 ہزار سے گھٹا کر 8600 کر دی تھی۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ماہ کے آغاز میں کہا تھا کہ امریکہ میں رواں برس نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے وقت افغانستان میں صرف چار سے پانچ ہزار فوجی ہی باقی رہیں گے